ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہندوستان میں کورونا کے 179 نئے کیس؛ ایک ہی دن میں سب سے زیادہ واقعات۔ وباء تیسرے درجہ میں داخل ہونے کا خطرہ

ہندوستان میں کورونا کے 179 نئے کیس؛ ایک ہی دن میں سب سے زیادہ واقعات۔ وباء تیسرے درجہ میں داخل ہونے کا خطرہ

Sun, 29 Mar 2020 12:53:46    S.O. News Service

نئی دہلی،29؍مارچ (ایس او نیوز؍پی ٹی آئی) ہندوستان میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد ہفتہ کو 1024 ہوگئی۔ ایک ہی دن میں آج 179 نئے کیسس سامنے آئے جو کہ اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

وزرات صحت نے آج کہا کہ ہندوستان میں فی الحال کووڈ۔19 کے ایکٹیو کیسس کی تعداد کم ازکم 918 ہے۔ مصدقہ کیسس کی جملہ تعداد 1024ہے۔ تاحال 24 اموات ہوچکی ہیں اور 85 افراد صحت یاب ہوگئے ہیں یا ہسپتال سے ڈسچارج ہوئے ہیں۔ کورونا وائرس تا حال 27 ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں میں پھیل چکا ہے۔ اس سے جملہ 103 اضلاع متاثر ہوئے ہیں۔

جمعہ کے دن وزارت صحٹ نے کہا تھا کہ اس نے عوامی شعبہ کے اداروں کو حکم دیا ہے۔ کہ وہ وینٹیلیٹرس فراہم کریں۔ خطرہ ہے کہ کورونا وائرس انفیکشن کمیونٹی ٹرانمیشن کے مرحلہ میں داخل ہوجائے گی۔ ایسے میں ہندوستان نے اپنے مجموعی ہیلت انفراسٹر کچر کو چست درست کرنا شروع کردیا ہے۔ اس نے ریاستوں میں کورونا مریضوں کے لئے ہسپتال مختص کرنے وینٹیلیٹرس کی خریداری بڑھانے اور ریلویز و مسلح افواج کے وسائل سے بھی استفادہ کے اقدامات شروع کردیئے ہیں۔

وزارت صحت اور انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے بڑے پیمانہ پر پھیلنے کا تاحال کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے لیکن حکومت نے کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کی تیاری شروع کردی ہے۔ ملک میں منگل کی رات سے 21 روزہ لاک ڈاؤن جاری ہے۔ مرکز نے تمام ریاستوں سے کہا ہے کہ وہ کورونا مریضوں کے علاج کے لئے ہسپتال مختص کریں۔ وہ اپنی گنجائش بڑھادیں۔ کم از کم 17 ریاستیں اس پر کام کرنے لگی ہیں۔ مسلح افواج نے اپنے 28 سروس ہسپتال کورونا مریضوں کے لئے تیار رکھے ہیں۔ 5؍ہسپتالوں میں انفیکشن کے لیباریٹڑی ٹیسٹ ہورہے ہیں۔

دفاعی ادارہ بھارت الکٹرانکس لمیٹڈ (بی ای ایل) کو وینٹیلیٹرس بنانے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ جبکہ ڈی آر ڈی او، طبی عملہ کے لئے حفاظتی سامان تیار کررہی ہے۔ وہ مختلف ایجنسیوں کو ہینڈ سانیٹائرزس اور فیس مساکس فراہم کررہی ہے۔

جمعہ کے دن حکومت نے آر کارپس اور ڈیویژنل کمانڈرس کو ایمرجنسی مالی اختیارات دے دیئے کہ وہ متاثرین کے لئے میڈیکل اور کوارنٹائن سنٹرس قائم کرنے آلات کی خریداری کریں۔ ریلویز نے اپنے غیر ایرکنڈیشنڈ ڈبوں کو کورانا وائرس کے مریضوں کے لئے آئسو لیشن وارڈ میں تبدیل کردیا ہے۔ جمعہ کے دن سرکردہ ہسپتالوں کے ڈاکٹروں نے اند یشہ ظاہر کیا کہ اگر لاک ڈاؤن اور کوارنٹٓئن پر اچھی طرح عمل نہیں ہوا تو ہندوستان تسیرے مرحلے میں داخل  ہوسکتا ہے یعنی کورونا کی وبائ تیزی سے پھیل جائے گی۔ مرکز اس کے لئے تیار ہے۔ اس نے ریاستوں سے کہا ہے کہ وہ سرکاری اور خانگی ہستپالوں میں چند بستر آئسولیشن کے لئے محفوظ رکھیں اور جن مریضوں کی حالت مستحکم ہو انہیں بعجلت ممکنہ ڈسچارج کردیا جائے۔

وزارت صحت نے ہستپالوں اور میڈیکل کالجوں سے کہا ہے کہ وہ وینٹیلیٹرس خرید لیں۔ ہائی ؍لوآکسیجن ماسک تیار رکھیں۔آل انڈیا انسٹی ٹوٹ آف میڈیکل سائنس (ایمس) نے کورونا مینجمنٹ پروٹوکول بنانے کے لئے ناسک فورس قائم کی ہے۔ مرکز نے ہسپتالوں سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ تمام غیر ضروری سرجریز؍ آپریشنسس ملتوی کردی۔

چیف منسٹر دہلی اروند کیجریوال نے جمعہ کے دن کہا کہ شہر میں کورونا کا پھیلاؤ قابو میں ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ دہلی میں روزانہ 100 کیسس بھی آجائیں تو ان سے نمٹنے کے لئے انتظامات مکمل ہیں۔ خانگی ہسپتالوں نے بھی تیاری کرلی ہے۔

میکس ہیلت کیر کے گروپ میڈیکل ڈٓائر کٹر ڈاکٹر سندیپ بدھی راجہ نے کہا کہ یہ صورتحال ‘جنگ عظیم کی صورتحا ل سے بھی بدتر ہے۔انہوں نے کہا کہ میکس گروپ نے مستقبل میں بدتر صورتحال سے نمٹنے سہ رخی حکمت عملی بنائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے گریٹر نوائیڈا ہاسپٹل میں کورونا مریضوں کے لئے ایک شعبہ مختص کررہے ہیں۔ جہاں 200 بستر،40 آئی سی یو بستر اور 160 وارڈس صرف اور صرف کورونا مریضوں کے لئے ہوں گے۔ اس کے علاوہ بی ایل کے ہاسپٹل، میکس ساکیت اور میکس پت پڑگنج میں نے کورونا مریضوں کے لئے مخصوص وارڈس ہوں گے۔ 


Share: